Naya saal naya ehad نیا سال نیا عهد
شام اہستہ اہستہ دن کو اپنی لپیٹ میں لے رہی یے,سرمائی بادلوں میں لپٹی دھند الود یہ شام اس سال کو الوداع کہہ رہی ہے. وہی سال جس میں ہم نے وطن کو خوب نوچا, ایک دوسرے کے گریبان چاک کیے,ہم شرمندہ ہیں یا رب کے تیری اس سوہنی دھرتی کو ہم نے خون سے رنگا,خوب نافرمانیاں کی, دوا سے لیکر دعا تک میں ملاوٹ کی, ننھے کلیوں کو بےدردی سے مسل ڈالا, جہاں بھوک سے بلکتے بچوں کی ہم انسانوں نے تو نہیں سنی مگر موت نے ان معصوموں کی بھوک کی تکلیف کی لاج رکھ لی, اس پر ہم شرمندہ ہیں یا رب,یا رب ہر انے والا دن تو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ شب کے اندھیروں کے بعد چمکتا سورج ہوتا ہے مگر میرے وطن کی ظلمت کے اندھیرے اتنے طویل کیوں یا رب؟ من پر اداسی کا بوجھ جب حد سے بڑھ جائے تو انسوؤں میں بہہ جاتا ہے اور من ہلکا ہوجاتا ہے مگر میرے مالک ہم من پہ منوں کے حساب سے بوجھ لیے پھرتے ہیں یہ بوجھ کیسے اترے گا تیرے کرم کے سوا؟ ہم گمراہی, مایوسی, بداعمالیوں کے گہرے بادلوں میں ہم گھرے ہوئے ہیں یارب, اس شب کو طویل نہ کر ہمیں بھی وہ روشن صبح دے جس میں امن و سکون ہو, جہاں اندر باہر سے زیادہ روشن ہو, جہاں نفس کے نہ...