Posts

ایک نظر ایک جائزہ "نکلے تیری تلاش میں" پر

Image
سچ بتاوں تو "نکلے تیری تلاش میں" کو میں کسی عاشق کی اپنے محبوب کی تلاش میں نکلنے کی روداد سمجھ رہا تھا مگر جوں جوں میں اس کتاب کو پڑھتا گیا کہانی کا رنگ اور میری رائے بدلتی گئی۔ نکلے تیری تلاش میں ہے تو ایک دیوانے کی روداد نہیں مگر اسکا عشق مادی نہیں ،فانی نہیں بلکہ اسکا عشق لافانی ہے حقیقی ہے۔یہ تلاش ہے کھلتے منظروں کی چاہے وہ استنبول کی ٹرین کا سفر ہو، یا ارض روم کی قدیم مکانوں کی دیدہ زیب سرخ چھتیں ہوں ، نورستان کی چوٹیوں کی بیچوں بیچ بہتا دریا کابل ہویا ایران کے گرم حمام ہوں، شہر مشہد کے امام رضا کے روضے  کا سنہری گنبد ہویا عمر خیام کا نیشاپور ہو۔ بلند و بالا نوح کا پہاڑ ہو یا پھولوں کا دیس ہالینڈ ،کانسطنطاین کا ابی محل ہو یا صوفیہ کا عظیم معبد ہو۔ او رئینٹ ایکسپریس کا سفر ہو یا شہزادوں کی جزیرے ہوں۔شہر بے مثال لنڈن ہو یا ایمسٹرڈیم کی خوبصورت نہریں۔  ہر طرف تاریخ میں لپٹے منظر اور ان منظروں کی تلاش میں نکلا ایک نورد۔ جو ان منظروں کو خوبصورت الفاظ میں پرو کہ پڑھنے والے پر اپنا سحر طاری کردیتا ہے۔ تلاش کا یہ سفر ازل سے ابد تک ہے ہر منظر اس کوہ نورد کی پیاس بڑھائے جاتا ہے ۔...

مفادات کی جنگ

مفادات کی جنگ پاک چین دوستی ہو یا روس بھارت یاری ہمیشہ اپنے مفادات کو سامنے رکھا جاتا ہے,کوئی ملک مفادات کو پس پشت نہیں ڈالتا. پچھلے کچھ عرصے سے عالمی منظر نامے پر کچھ انتہائی  اہمیت کے حامل ملکوں کی طرف سے حالات کا رخ کسی بڑی جنگ کے طرف مڑتا محسوس ہو ا هے . کبھی ترکی روس میں طیارہ گرانے پہ تنازہ کھڑا ہو جاتا ہے تو کبھی پاک بھارت میں ممبئی, پٹھان کوٹ جیسے واقعات کشیدگی کی صورت پیدا کردیتے ہیں.اگر ہم عالمی منظر نامے کو دیکھیں تو ایک طرف عرب ممالک کے گٹھ جوڑ سے داعش کے خلاف چونتیس ملکی اتحاد کا اعلان ہوا جبکہ شام, ایران اور عراق اس اتحاد کا حصہ نہیں بنے. ان ملکوں کے مطابق یہ گٹھ جوڑ سنی ممالک کی جانب سے شیعہ کے خلاف ہونے جارہا ہے. جبکہ عرب ممالک کے مطابق یہ اتحاد داعش کے خلاف ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب شام میں شیعہ حکومت کے خاتمے کے لیے بھی کام کر رہا ہے. جو بھی ہو یہ ایک خالص مفادات کی جنگ ہے مگر اس جنگ کو مسلکی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے.پاکستان بھی اس,چونتیس ملکی اتحاد کاحصہ بنے جا رہا ہے جو کسی طور بھی درست نہیں.کیونکہ ایک طرف ہمارا برادر اسلامی سعودی عرب ہے تو د...

Naya saal naya ehad نیا سال نیا عهد

شام اہستہ اہستہ دن کو اپنی لپیٹ میں لے رہی یے,سرمائی بادلوں میں لپٹی دھند الود یہ شام اس سال کو الوداع کہہ رہی ہے. وہی سال جس میں ہم نے وطن کو خوب نوچا, ایک دوسرے کے گریبان چاک کیے,ہم شرمندہ ہیں یا رب کے تیری   اس سوہنی دھرتی کو ہم نے خون سے رنگا,خوب نافرمانیاں کی,  دوا سے لیکر دعا تک میں ملاوٹ کی, ننھے کلیوں کو بےدردی سے مسل ڈالا, جہاں بھوک سے بلکتے بچوں کی ہم انسانوں نے تو نہیں سنی مگر موت نے ان معصوموں کی بھوک کی تکلیف کی لاج رکھ لی, اس پر ہم  شرمندہ ہیں یا رب,یا رب ہر انے والا دن تو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ شب کے اندھیروں کے بعد چمکتا سورج ہوتا ہے مگر میرے وطن کی ظلمت کے اندھیرے اتنے طویل کیوں یا رب؟ من پر اداسی کا بوجھ جب حد سے بڑھ جائے تو انسوؤں میں بہہ جاتا ہے اور من ہلکا ہوجاتا ہے مگر میرے مالک ہم من پہ منوں کے حساب سے بوجھ لیے پھرتے ہیں یہ بوجھ کیسے اترے گا تیرے کرم کے سوا؟ ہم  گمراہی, مایوسی, بداعمالیوں کے گہرے بادلوں میں ہم گھرے ہوئے ہیں یارب, اس شب کو طویل نہ کر ہمیں بھی وہ روشن صبح دے جس میں امن و سکون ہو, جہاں اندر باہر سے زیادہ روشن ہو, جہاں نفس کے نہ...

اعمال کے جھٹکے

اچھے معاشرے زندہ قوموں کا ائینہ ہوتے ہیں اور زندہ قومیں کسی نظریہ پہ زندگی گزارتی ہیں. افراد کے ہجوم کو ہم قوم نہیں کہتے. بدقسمتی سے پاکستان اپنی پیدائش کے ساتھ سے ہی بیرونی سازشوں کا شکار ہوتا ایا ہے جس کی مثال ہم مشرقی پاکستان کی لے سکتے ہیں اور اسکی ساری ذمہ داری ہم بھارت کے کندھے پر ڈالتے ہیں.مگر یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے جیسے تاریخ میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں نے ہی پہنچایا ویسے ہی پاکستان کے راستے میں سب سے زیادہ مسائل ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں. بیرون ملک پاکستانیوں کا تشخص ہو یا اندرون ملک قانون کا احترام ہو ہم ہمیشہ سے اس میں ناکام رہے ہیں, تبدیلی کی تلاش میں جلسے جلوسوں میں تو بڑے ذوق شوق سے جاتے ہیں مگر اس 6 فٹ کے وجود کے اندر ہم نے کبھی جھانکنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی. یہ ہمارے اعمال ہیں جن کی سزا کبھی دہشت گردی,سیلابوں, زلزلوں یا کرپٹ حکمرانوں کی صورت میں ہم پر مسلط ہیں.  ظلم کی چکی میں پس کہ کبھی بغاوت جنم لیتی ہے تو کبھی جرائم. پاکستان میں گزشتہ 8 سالوں (2004-2012) میں مجموعی طور پر 114764 قتل کے , 138456 اغوا کے, زیادتی کے 2886 اور 35661...

12 ربیع الاول لمحہ فکریہ...

ہر طرف انتہائی خوبصوت روشنیوں کی بہاریں تھی ،رات کے 9 بج رہے تھے مگر سارے شہر میں چراغاں کے باعث دن کا منظر تھا.میں بھی چہل پہل دیکھ کہ باہر نکل ایا, گل میں جگہ جگہ دودھ کی  سبیلیں لگی تھی اور کہیں کہیں لنگر تقسیم ہو رہا تھا میں بازار کی طرف مڑ گیا اچانک کانوں کو کچھ عجیب سی اواز پڑی جو موقع محل کی مناسبت سے بالکل مناسب نہ تھی مگر جوں ہی میں موڑ مڑ کے مارکیٹ کی طرف ایا اواز واضح ہوگئی ایک گاڑی بازار کےبیچو بیچ کھڑی تھی سارے دروازے کھلے اور والیم فل تھا اور ایک انتہائی واہیات انڈین گانا بج رہا تھا اور چند نوجوان لڑکے ڈانس کر رہے تھے اور اس پہ سونے پہ سہاگہ یہ کہ انکے اردگرد اچھے خاصی تعداد میں لوگ کھڑے انکے ڈانس سے محذوز ہو رہے تھے. یہ 12 ربیع الاول کا دن تھا اور محمدی امت اج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ولادت کا دن منا رہے تھے .انتہائی ادب کے ساتھ اس دن کو سب نے اپنی مرضی کے مطابق منایا ہر طرف سجاوٹ, لنگر اور چہل پہل تھی. مجھے کسی کے بھی کسی طرح اس دن کو منانے سے اختلاف نہیں نہ ہی ہماری کوئی اوقات ہے کہ اپنے کسی قول فعل سے نبی پاک کی ذات صفات میں کوئی کمی یا زیادتی کرسکیں.مگر ...

بسمہ مر گئی مگر بھٹو زندہ ہے..

پاکستان میں وی آئی پی پروٹوکول کی لعنت بہت عام  ہوچکی ہے,تپتی دوپہر ہو یا برستی بارش,طوفان ہو یا سیلاب انہیں روڈ بالکل خالی ملنا چاہیے. کوئی مریض ایمبولینس میں مر رہا ہے یا کسی بچی کا امتحان لیٹ ہورہا ہے, کسی کوکام پر جلدی پہنچنا ہے یا کسی کے اپنے پیارے کو میت کو کندھا دینا ہے سب گھنٹوں روڈ پر کھڑے کسی وزیر,مشیر وزیراعلی,وزیراعظم جیسی اعلی ہستیوں کے گزرنے تک انتظار کی سولی سے گزرتے ہیں.اسے کہتے ہیں وی  ائی پی پروٹوکول جسے لاہور,اسلام اباد کراچی سمیت ہر بڑے شہر کے شہری روزانہ برداشت کرتے ہیں. اسی برس فروری میں زرداری صاحب کے پروٹوکول کے باعث ایک عورت نے روڈ پر بچے کو جنم دیا.اور اج اسی باپ کا بیٹابلاول بھٹو کراچی میں ہسپتال کے افتتاح پر ایا تو سارا شہر بند کردیا گیا ایک غریب باپ اپنی بیٹی کو لیے ہسپتال کے باہر بھاگتا رہا مگر کوئی ایک دروازہ اسے کھلا نہ ملا کہ وہ اپنی بچی کو ایمرجنسی میں لے جاتا. وہ ہر دروازے تک گیا مگر,اسے دوسرے دروازے کی طرف بھگا دیا جاتا ایسے گھنٹہ بیت گیا اور جب وہ اندر پہنچا,تو,اسکی بسمہ اسکے ہاتھوں میں دم توڑ چکی تھی, میڈیا نے اس خبر کو اٹھایا اور اج لودھ...

آخری لکڑی

Image
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک لکڑہارے کے پاس ایک گدھا تھا وہ روز شہر سے جنگل جاتا, لکڑیاں کاٹتا گدھے پر لادتا اور شہر آکہ بیچ دیتا,یوں اسکی گزر بسر ہو جاتی.ہاتھ تنگ تھا مگر گزارا چل رہا تھا.ایک دن لکڑہارے کو ضرورت سے زیادہ لکڑیاں مل گئی.اس نے گدھے کو لکڑیوں سے لادنا شروع کردیا جوں جوں وہ لکڑیا لادتا چلا گیا گدھا جھکتا گیا. ایک وقت ایا گدھا پوری طرح لکڑیوں سے بھر گیا مگر چند لکڑیاں پھر بھی بچ گئی لکڑہارے نے سوچا بس یہ اخری اور ایک اور لکڑی رکھ دی پھر سوچا بس یہ اخری اور ایک لکڑی رکھ دی,  کرتے کرتےایک لکڑی بچ گئی لکڑہارےنے جونہی وہ اخری لکڑی گدھے پر رکھی گدھا دھڑم سے نیچے ارہا اور ساری لکڑیاں بکھر گئی. ہمارا موجودہ نظام بھی بالکل اسی طرز پر جاری ہے, حکمرانوں کی مثال لکڑہارے کی,عوام کی گدھے اور لکڑیاں ان مثائل کی نشاندہی کرتی ہیں جو ہمارے حکمران برسوں سے اس عوام کے کندھوں پر لادے جا رہے ہیں. بدقسمتی سے ہمیں ایسے حکمران ملے جنہوں نے افتوں سے لیکر عوامی فلاح کے منصوبوں تک صرف سیاست کی اورنعرہ ہمیشہ خدمت عوام کی کا لگایا.میٹرو,نندی پور سمیت ایسے منصوبوں کو اہمت دی جن کی تشہیر کی جاسکے. چائنہ...